دل کے مزار پر

دل کا اآنگن اگر آباد نہ ہوسکے تو دل اسے مزار بنا لیتا ہے

جہاں وہ روز جیتا ہے

روز مرتا ہے

روز کفن دفن ہوتا ہے

اس جینے اور مرنے سے لے کر دفنانے تک

دل سے پرسا کرنے آنکھیں آنسو بہاتی ہیں

سسکیاں سینے میں گھٹ گھٹ کر چیخیں بن جاتی ہیں

دماغ کی نسیں پھٹ پھٹ کر کنپٹیوں میں شور کرتی ہیں

کانوں میں سیٹیوں کا شور بڑھتا جاتا ہے

پھر جسم و جاں مٹی کا ڈھیر بن جاتا ہے

دل اس مٹی کے ڈھیر کو دفنا کر

مزار تعمیر کرتا ہے

دل۔۔آنسو۔۔کان۔۔کنپتیاں۔۔۔سینے کی گھٹن۔۔سب مل کر دل کے مزار پر فاتحہ خوانی کررہے تھے

کیسی حیرت کیسا دکھ

حیرانگی کی کوئی حد نہیں تھی، بچوں کے جملے سن کر میں حیران بلکہ خطرناک حد تک پریشان ہوگئی، اور اپنی جٹھانی کے پاس کچن میں رکھی کرسی پر کب بیٹھی کی بیٹھی رہ گئی. کچن سے ملحقہ کمرے میں ٹی وی کے سامنے بیٹھے اپنے اور ان کے دس سال سے کم عمر کے بچوں کی گفتگو نے میرے دل و دماغ میں کہرام برپا کردیا تھا.
”ارے وہ دیکھا تھا، بین ٹین میں اس کی گرل فرینڈ نے جب اسے بچایا اور ….. کی تو بین ٹین کو شرم آرہی تھی.“
”کیسے جیسے وہ ٹام اینڈ جیری میں بلی سج سجا کر بیٹھی تھی تو ٹام کے کیسے پٹاخے پھوٹ رہے تھے دل کے.“
پھر کارٹون سیریز کے کتنے ہی کریکٹرز انھوں نے دو منٹ میں ڈسکس کر ڈالے تھے، اور ساتھ ہی قہقہے پر قہقہے.

میں ان کی گفتگو سے زیادہ اپنےگزشتہ دس سالوں پر پریشان ہونے لگی تھی اور سوچ رہی تھی کہ یہ سب کب کیسے ہوا؟؟؟؟

بچوں کو گود سے ہی دین سے محبت و آشنائی کے عزائم کا پہلا قدم قرآن کی تعلیم سے آغاز تھا، اور یہ خواب پہلی بار تب دیکھا تھا جب خود ایف ایس سی کی اسٹوڈنٹ تھی، اور کالج جاتے ہوئے راستے میں آنے والے ایک جدید دینی ادارے کے بچوں کو بادامی رنگ کے خوبصورت قمیض شلوار اور ٹوپی/اسکارف کے پیارے پیارے حلیوں میں جاتا ہوا دیکھتی تو یاد آتا کہ بچپن ہی میں یتیمی کے تھپیڑوں سے تعلیم کے سلسلے کے بار بار منقطع ہونے کا سب سے زیادہ اثر قرآن کی تعلیم پر ہوا، نتیجتا درست تلفظ کے ساتھ قرآن پاک نہ پڑھنے کی محرومی بھی رہی. میٹرک کے بعد جب ایک باجی سے تجوید سیکھی تو معلوم ہوا کہ جو تلفظ بچپن سے بیٹھ جائے، اسے درست کرنا بے حد مشکل ہے۔ یہی محرومی ایف ایس سی کے دوران جب اسلامک اسکول کے بچوں کو دیکھتی تو عملی زندگی کے دور سے ناآشنا ہونے کے باوجود یہ خواہش دل میں ابھری کہ جو بھی ہو، میں اپنے بچوں کو سب سے پہلے قرآن کی تعلیم دلواؤں گی.

یاد ہے کہ بیٹی ابھی ڈھائی سال کی تھی جب شوہر کے ساتھ اس اسکول کے آفس میں بیٹھی انتظامیہ سے اصرار کر رہی تھی کہ آپ ابھی رجسٹریشن کرلیں، مگر ان کا کہنا تھا کہ بچی جب ساڑھے تین سال کی ہوگی تبھی داخلہ ممکن ہوگا، پری ون کا کورس کروایا جائے گا، پھر قرآنی قاعدہ، ناظرہ، حفظ اور اس کے بعد 5 ویں کلاس سے دوبارہ تعلیم کا آغاز ہوگا۔خیر پھر اس کا پراسپیکٹس بھی لے آئی تھی۔

زمانہ طالب علمی میں ایک درس دینے والی آپا کے گھر جانا ہوا تھا۔ وہ ہمیں بٹھا کر کچن میں گئیں، سامنے والے لاؤنج میں ان کے بچے کارٹون نیٹ ورک دیکھنے میں مصروف، اور اسی طرح لڑنے بھڑنے اور ہندی الفاظ بولنے میں مگن تھے، دیکھ کر یہ عزم اور پختہ ہوا کہ باہر درس دینے سے زیادہ میں اپنے بچوں کو اتنی توجہ دوں کہ وہ ان خرافات سے بچ کر ایک صالح فطرت میں نمو پائیں، مگر یہ کہنا بہت آسان تھا، کرنا بےحد مشکل۔

بچوں کو ٹی وی کارٹونز سے دور رکھنے کی جدوجہد میں اپنی صحت و مصروفیات کو پس پشت ڈال کر ان کے ساتھ بچہ بن کر کھیلتے رہنا، کم و بیش روزانہ واک کے لیے جانا، شوہر کے ساتھ مختلف بھاگ دوڑ والی گیمز تلاش کرنا، کھلونے جمع کرنا، سعودیہ اور دیگر ممالک میں رشتہ داروں سے کہنا کہ بچوں کی اسلامی اخلاقی تربیتی پروگرامز کی ریکارڈنگز بھیج دیں، شام اور سعودیہ کے میڈیا کی تیار شدہ عمدہ تربیتی پروگرامات کی کچھ ویڈیوز ملیں تو وی سی آر پر چلا کر بچوں کو دکھانا، کسی بک فئیر میں شعبہ اطفال کا ینگ مسلم کلاسز کا کورس نظر آنے پر خرید لینا، گھر آکر اس کی کلاسز ساتھ والی ہمسائی کی میٹرک کی بچی کے ساتھ شروع کرنا، کلرنگ،کھیل ہی کھیل میں بچوں کو اللہ کے صفاتی نام، احادیث، دعائیں، نظمیں یاد کروانا.

بچوں کو کارٹون نیٹ ورک سے بچانے اور اس کا متبادل پیش کرنے میں کھپ جانے کے بعد، آج جٹھانی کے گھر دعوت پر جب اپنے ہی بچوں کے منہ سے کارٹون نیٹ ورک کی سیریز کی اسٹوری اور کریکٹرز کی تفصیل سن رہی تھی تو لگ رہا تھا جیسے میری کوئی متاع لٹ گئی ہے، اور میں کئی سالوں کی اپنی کوشش میں ناکام ہو چکی ہوں۔گھر میں بچوں کو کارٹون نیٹ ورک کی خرافات سے مکمل بچا کر رکھا، رشتہ داروں کے ہاں بھی زیادہ آنا جانا نہ تھا، امی کے گھر بھی جانا ہوا تو کبھی ٹی وی کے سامنے نہ بیٹھنے دیا۔ ایک دینی ماحول اور ایک قرآنی تعلیمی ادارے میں قرآن حفظ کرنے والے بچے، اتنے ”محفوظ“ ماحول میں انھیں کارٹون نیٹ ورک کی سیریز کا کیسے معلوم ہوا اور کہاں انھوں نے یہ سب کچھ دیکھا. یہ سب بےحد حیران کن تھا۔

بچوں سے دوستانہ انداز میں استفسار پر معلوم ہوا کہ اسکول بریک کا آدھا گھنٹہ، اسکول وین میں گھر تک کے سفر کا آدھا گھنٹہ، اور اوسطا مہینہ بھر میں ایک بار رشتہ داروں کے ہاں کا وزٹ، ان سب نے مل کر ہمیں اپنے بچوں کو اس ہندوانہ اور مغربی تہذیب پر مبنی خرافات سے بچانے کی تمام تر کوششوں میں ناکام کر دیا.

1980ء اور 1990ء کی دہائی میں ہم صبح صبح روشن پاکستان میں چاچا جی کے پروگرام میں 15 منٹ کے کارٹونز دیکھنے کے لیے اٹھا کرتے تھے، مکی ماؤس، پنک پینتھر، ٹام اینڈ جیری ان دنوں اتنے شریف کارٹونز تھے کہ آج کے بچے دیکھ کر شاید مذاق اڑائیں کہ ہم کس قسم کے غیر دلچسپ کارٹونز دیکھتے تھے. سہ پہر 3 بجے قاری صداقت کا پی ٹی وی پر 15 منٹ کا قرآنی تعلیم کا پروگرام۔ 5 بجے شام آدھا گھنٹہ، پی ٹی وی پر بچوں کےلیے مختص تھا، جس میں الف لیلی، انکل سرگم، سنگ سنگ چلیں، عینک والا جن ، سائنس کہانی، وغیرہ جیسے تفریحی پروگرامات آیا کرتے تھے، آدھے گھنٹے میں بھی 20 منٹ کا بمشکل پروگرام ہوتا تھا باقی اشتہارات۔ اگر کسی سے صبح کے کارٹونز، قاری صداقت صاحب کا ناظرہ تعلیم، اور یہ شام کا پروگرام مس ہوجاتا، تو اس کا ذمہ دار پی ٹی وی ہرگز نہ تھا کہ دوبارہ ٹیلی کاسٹ کی روایت تب دریافت نہ ہوئی تھی۔
وقت ہی وقت ہوتا تھا۔ ماؤں اور باجیوں نے 8 بجے کے ڈرامے کے لیے توجہ رکھنی اور والد و بھائی نے بس 9 بجے کا خبر نامہ دیکھنا ہوتا تھا. سب کے پاس وقت ہوتا، ایک دوسرے سے گفتگو کی جاتی، ادب آداب شرم لحاظ کا دور تھا، علم کی قدر تھی۔

پھر پی ٹی وی کی پالیسی بدلی، ڈش آئی، پرائیویٹ چینلز کی دوڑ شروع ہوئی، یہ سب اتنی تیزی سے معاشرے کی ضرورت بن گیا کہ ماں باپ کو اپنے کام نپٹانے کے لیے بچوں کو کارٹون نیٹ ورک سے بہترین کوئی مصروفیت نہ ملی، مگر یہ سب ہمسایہ ملک کے ہندی زبان کے چینلز تھے۔ جس ہندووانہ تہذیب سے اپنی نسل کو بچانے کے لیے دو قومی نظریے کی بنا الگ وطن حاصل کرنے کے لیے بزرگوں نے قربانیاں دیں، اس جدت کی اندھا دھند دوڑ نے اپنی تہذیب کے ساتھ بچوں کا مستقبل، دین و دنیا تباہ کردیں.

تو پھر حیرت کیسی؟
جب بچہ اپنی خالہ کی شادی پر ماں سے پوچھے کہ امی یہ کسی شادی ہے، خالہ اور ان کے دلہا کے آگ کے گرد سات پھیرے تو ہوئے نہیں!
جب چھٹی کلاس کا طالب علم ٹیچر کے عشق میں جان دے دے.
کہ اسکول کے بچے محبت میں ناکامی پر اکٹھے خود کشی کرلیں.
کہ ہوس کا شیطان ساڑھے تین سال کی بچی کو نشانہ بنائے.
کہ اپنی حیا کو سیکس ورکر کے نام سے بنت حوا خود نیلام کرے.
کہ نوجوان اپنی جوانی کھو کر معاشرے کا عضو ناکارہ بن جائیں
کہ رشتوں کا تقدس ہوس پامال کر دے
پھر کیسی حیرت جب لمز، فاسٹ، پنجاب یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی سے نوجوانوں کی لاشیں ان کے کمروں سے ملیں.
یا پھر کیسا دکھ کہ جوانی کی بہار سے آشنا ہوتی معصوم کلیاں لاہور کی نہروں سے مسلی ہوئی نکالی جائیں.

کلمہ لاالٰہ کے نعرے اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کیے گئے اس ملک کی نسل نو، امت محمدی ﷺ کے گلشن کے پھول، ہمارے مستقبل کے معمار، اس شتر بےمہار میڈیا کی ہوسناکی پر قربان کرنے کے لیے ہرگز نہیں ہیں۔

گزشتہ دنوں کچھ تعلیمی اداروں کے اشتراک سے لاہور میں ایک سائنسی میلے میں اسکول کے بچوں کی بنائی گئی سائنسی ایجادات دیکھ کر حیرانگی اپنی جگہ، مگر امید بہرحال بیدار ہوئی، وہیں والدین، تعلیمی اداروں کے سربراہان، ارباب اختیار و ایوان اقتدار میں بیٹھے افراد کی غیر ذمہ داری پر قلق بھی ہوا۔ چین، جاپان، سعودیہ، سوڈان، ایران، ترکی، ہر ملک نے اپنی میڈیا پالیسی مرتب کی ہوئی ہے، بچوں کی اخلاقی تعلیمی تربیت کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ خود امریکہ و یورپی ممالک میں خاندانی نظام اور اخلاقیات پر مبنی پروگرامات تیار کیے جانے لگے ہیں.

کیا حکومت نسل نو کی اخلاقی و تعلیمی اور تہذیبی تربیت کے لیے پروڈکشنز پر سرمایہ کاری نہیں کرسکتی؟
کیا منصوبہ ساز اداروں نے نسل نو کی تعمیر کے لیے کوئی لائحہ عمل ترتیب دینے کا کبھی سوچا؟
کیا میڈیا پالیسی مرتب کرتے ہوئے امت کے نونہالوں کے لیے سوچا جاتا ہے؟
آخر کب تک ہم یونہی جلتے کڑھتے اس تہذیبی یلغار میں دشمن کے ایجنڈے پر اپنی نسلوں کو تباہ و برباد ہوتا دیکھتے رہیں گے؟
آخر کب تک؟

جب تک ایوان اقتدار میں کوئی امت کا غمگسار حکمران براجمان نہیں ہوگا، اور جب تک نسل نو کو بہترین مستقبل کے لیے تیار کرنے کی فکر کرنے والے پالیسی ساز اداروں یعنی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نہیں آئیں گے تب تک تو یہ ناممکن ہی رہے گا.

بلاشبہ نونہالان وطن کی تباہی کے ذمہ دار اس وقت ایوان اقتدار میں بیٹھے حکمران اور خاموشی سے بیٹھے پاکستانی بھی ہیں،
میں اور آپ بھی ہیں،
اٹھ کھڑے ہوئیے، قبل اس کے کہ میڈیا کی ہندووانہ اور مغربی تہذیب کی یہ آگ میرے اور آپ کے گھروں کو جھلسا کر رکھ دے.

جاپانی خاتون پروفیسر کی خواہشات

اس کا نام سی چی اون تھا یا کیا، جب اس سے مطلب پوچھا تو اس پیاری سی جاپانی خاتون نے شستہ اردو میں ”مسرت، خوشی“ بتایا تو خوشگوار حیرت ہوئی۔
آج اسٹاف روم میں داخل ہوتے ہی پرنسپل کا میسج ملا تھا کہ ایک جاپانی ریسرچر ادارے کے وزٹ پر ہیں، ان کے ساتھ آپ کی ڈیوٹی ہے، سینیئر کلاسز کے ساتھ سٹنگ ارینج کروا دیں، سو کلاس انچارج کو بلا کر کلاسز کو کمپیوٹر لیب میں جمع ہونے اور سٹنگ ارینجمنٹ کی ہدایات کیں۔ سیچی اون سےانگلش میں کیے گئے تعارفی سوال کا اردو میں جواب آیا تو بات کرنا بہت آسان لگا کہ انگلش سے کبھی ہماری بنی نہیں۔

یہ جاپانی خاتون انڈیا اور پاکستان پر پی ایچ ڈی کی ریسرچ کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر تھیں، اس سے قبل انڈیا جا چکی تھیں۔ اس سے پہلے وہ ماسٹرز لیول کی ڈگری انٹرنیشنل ریلیشنز کے لیے یونیورسٹی کے وفد ساتھ آئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں سیچی نے بتایا کہ وہ ہفتے میں 3 دن یونیورسٹی جاتی ہے۔ ہر لڑکی کو جاب کرنا پڑتی ہے۔ لڑکیاں یا فیملی بنا لیں یا جاب کرلیں۔ مرد بچوں کا خرچ کم اٹھاتے ہیں، اس لیے وہاں جنریشن گیپ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اگر جنریشن گیپ اسی طرح جاری رہا تو 35 سال بعد جاپان کے پاس ورکنگ پاور خطرناک حد تک کم ہو جائے گی، اس لیے حکومت نے عورتوں کو فیملی بنانے کی طرف راغب کرنے کے لیے انھیں وظائف دینے کی پالیسی اپنائی ہے۔ اس خاتون پروفیسر کا کہنا تھا کہ وہ یونیورسٹی صرف 3 دن جاتی ہے جبکہ اس کا شوہر 5 دن جاتا ہے، برابر تنخواہ پر۔ اس وقت طالبات کھلکھلا کر ہنس پڑیں جب اس نے کہا کہ میرا کہنا ہے کہ میرے شوہر کو بھی 3 دن ہی جانا پڑے تاکہ ہم فیملی ٹائم زیادہ اچھا گزار سکیں۔ جاپان میں آدمی گھر کی ذمہ داری نہیں اٹھاتے مگر میری اپنی شوہر سے اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے، میں اور وہ مل کر گھر کے کام کرتے ہیں۔ میں اس وقت ریسرچ کے لیے یہاں ہوں تو وہ گھر کے سب کام کر رہے ہیں۔ میں اپنے بچوں کو بڑوں کے ادب اور جھوٹ سے بچنے جیسی اچھی عادتیں سکھاتی ہوں اور یہ میں نے اسلام اور پاکستان کو جاننے سے سیکھا ہے.

میڈیا اور اس کے معاشرہ پر اثرات سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ جاپان میں میڈیا پر ٹیکنالوجی چھائی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ بچوں کے چینلز پر بھی ان کو ٹیکنالوجی کے بارے ہی تفریح بھی فراہم ہوتی ہے، ڈانس،ایروبکس، سائنس، اور دیگر مہارتوں کا بچپن ہی سے عادی بنایا جاتا ہے جبکہ اخلاقیات، تہذیب، شرم و حیا ایسی کوئی بات میڈیا پر نہیں آتی۔ جاپانی لڑکیاں ایسے لباس پہنتی ہیں کہ مجھے شرم آجاتی ہے لیکن ان کو نہیں آتی، لباس مختصر ترین ہے اور اس کی وجہ سے بہت بے حیائی ہے۔ کھا پی لو اور عیش کرلو۔ایک دوسرے کا خیال رکھنا، بڑوں کا احترام، بچوں کو اپنی ذمہ داری سمجھنا، یہ سب وہاں ناپید ہے جس کی وجہ سے سب بس ایک مشینی زندگی گزار رہے ہیں۔

سیچی نے بتایا کہ پاکستان آنے جانے سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ میں اور میرے شوہر اپنے والدین کی عزت کرتے ہیں، ان کا خیال رکھتے ہیں، اپنے بچوں کی ہم خود کیئر کرتے ہیں، میری بیٹی اس وقت نانی کے پاس ہے، میں اپنے شوہر کے والدین سے بھی دوستی رکھتی ہوں تاکہ میرے بچے بھی ہم والدین کی عزت کریں۔ ہم اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، ان کو باہر گھمانے ساتھ لے کر جاتے ہیں، اکھٹے کھانا کھاتے ہیں، ان کو ٹی وی کم دیکھنے دیکھتی ہوں اور جب ہم سب بیٹھے ہوں تو آپس میں گفتگو کرتے ہیں، سیل فون چھوڑ دیتے ہیں. اس کا کہنا تھا کہ بچے ہم سے یعنی والدین سے سب سے زیادہ سیکھتے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ بچوں اور ان کے والدین کو زیادہ سہولیات دے تاکہ ہم اپنے بچوں کو ایک اچھا شہری بنا سکیں.

وہ جاپانی اسکالر گفتگو کر رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ یہ ایک ترقی یافتہ معاشرے سے ہے، مگر اس سے بیزار ہے. ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خود مختار خاتون خود کو ان تمام اخلاقیات کی جانب لے جانا چاہ رہی ہے جسے اس وقت ہمارے معاشرے نے بوجھ سمجھنا شروع کر دیا ہے، اور مغرب کی دیکھا دیکھی اس سے ہاتھ دھو رہے ہیں. اخلاقیات کو کتابوں کی کہانیاں بنا دیا گیا ہے۔ اپنے تعلقات لو اور دو کی بنیاد پر نبھائے جا رہے ہیں، ساتھ رہنے والوں کے دکھ درد اور غم سے ناآشنا ہوکر خود غرض زندگی کے عادی ہو رہے ہیں.
والدین بوجھ لگنے لگے ہیں، اور بچوں کو دادا دادی، نانا نانی، خالہ مامی، چچی تائی کے بجائے سمارٹ فون، سوشل میڈیا، ٹی وی کارٹون اور انڈین چینلز، مونٹیسوریز کے حوالے کرنے کا سفر تیزی سے طے ہو رہا ہے۔ کیبلز پر انڈین چینلز نے جوائنٹ فیملی سسٹم سے سنگل فیملی سسٹم کا رجحان بنایا، نتیجہ ماں اور باپ دونوں گھن چکر بنے گھر اور سوشل لائف گھسیٹ رہے ہیں اور بچوں کی ذہنی، اخلاقی، تعلیمی تربیت جدید ذرائع ابلاغ کر رہے ہیں.

اب بھی وقت ہے کہ ہم سوچیں،
کیا ہمیں نسل نو کا تحفظ عزیز نہیں۔ معاشرہ، تعلیمی نظام اور میڈیا ہمارے بچوں کو جو سکھا رہا ہے، آنے والے دنوں میں ان کا طرز زندگی اسی پر تعمیر ہوگا.
کیا ہم چاہیں گے کہ ہمارے بچے ہمیں اولڈ ہومز میں پھینک دیں،
کیا ہم چاہیں گے کہ ہمارے بچے شادیوں کے بغیر حرام تعلقات کےگند میں زندگی گزاریں،
کیا ہم چاہیں گے کہ ہمارے بچے دوسروں کے حق چھیننے والے بنیں،
کیا ہم گوارا کرلیں گے کہ قتل و غارت، فساد اور جھگڑے ہمارے بچوں کی زندگیاں تباہ کریں،
کیا ہم دیکھنا چاہیں گے کہ ہمارے بچے سوال کریں کہ ہمیں خدا نے دیا ہی کیا ہے، رسول ﷺ کی کیا حیثیت، یہ ہماری زندگی ہے جیسے چاہیں گزاریں۔ (نعوذ باللہ)
حلال حرام کی تمیز کے بغیر رشوت، چوری، ڈاکے، کرپشن میں مبتلا ہوں،
ہم اپنے بچوں کو دیکھنے کو ترسیں اور کتے بلے پال کر ان کے ساتھ زندگی گزریں،
کیا ہم پسند کریں گے کہ ہمارے بچوں کو نشے میں دھت کسی ڈانس کلب میں فساد پھیلانے پر پولیس پکڑ کر لے جائے،
کیا ہم یہ دیکھنے سے پہلے مر جانا نہ گوارا کرلیں کہ ہمارے بیٹے کسی کی بیٹی کی ردا چھینیں اور بیٹیاں لڑکوں کو دعوت زنا دیں، اس سے بھی آگے ہم جنس پرستی کے دلدداہ بن جائیں.

یہ الفاظ لکھنا بھی مشکل اور برداشت سے باہر ہے، یقینا آپ سب نے بھی پڑھتے فورا انکار کیا ہوگا، کراہت محسوس کی ہوگی، فورا استغفراللہ بولا ہوگا، اور ور کہا ہوگا کہ اللہ نہ کرے کبھی ایسا ہو. واقعی اللہ نہ کرے کہ کبھی بھی ایسا ہو کہ جن اولادوں کو ہم نے اللہ سے دعائیں مانگ کر لیا ہے، دن رات ان کی خاطر پیٹ کاٹا ہے، محنت مشقت کی ہے، راتوں کو جاگے ہیں، اچھی تعلیم و تربیت کے لیے کئی تکلیفیں اٹھائی ہیں، بہترین مستقبل کے لیے جتن کیے ہیں، وہ اس طرح کی زندگی گزاریں.

کیا کبھی سوچا کہ میڈیا کیسے ہمارے اس سرمائے کو تباہ و برباد کرنے میں مصروف ہے؟ اس پر کوئی حکومتی قدغن نہیں کہ حکومت اپنی لبرلزم کے دعوے کئی بار کرچکی۔ پیمرا، پی ٹی اے اور صحافتی اصول و ضوابط کے ایکٹ، سب خاموش تماشائی، ان کی دفتری دستاویز میں سب لکھا ہے، مگر عملدرآمد ندارد.
ہماری جیبوں سے جانے والی ٹی وی لائسنس کی کروڑوں کی فیس اور ہر پراڈکٹ میں دیا جانے والا سیلز ٹیکس، کیا یہ سب ہماری نسلوں کی تباہی و بربادی کے لیے ہے؟

ایک مسلم معاشرے میں برائی کو ہمیشہ کمزور ہونا چاہیے، ایسے کہ وہ منہ چھپاتی پھرے، تقویٰ کو غالب ہونا چاہیے، لیکن بد قسمتی سے میری اور آپ کی خاموشی اور بےحسی کی وجہ سے کلمے کی تجربہ گاہ کے طور پر بننے والے ملک کو سیکولرزم اور لبرلزم کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے، الیکٹرانک، پرنٹ، اور سوشل میڈیا اس میں آلہ کار بن گیا ہے.

اپنے فرض کو پہچانیے، برائی کے خلاف کھڑے ہونے کا عزم کیجیے، اپنے بچوں کے انٹرٹینر خود بنیے، انھیں صالح صحبت فراہم کیجیے، قرآن و سنت ﷺ سے دلچسپ انداز سے جوڑیے، رشتوں میں رہنا سکھائیے، میڈیا پر وہ دکھائیے جو دکھانے والی چیز ہو، ان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھیے، سمارٹ فون کا مشترکہ استعمال ہو، ضرورت کے لیے سادہ فون استعمال کروائیں.

پیمرا و دیگر متعلقہ اداروں کو کال کر کے علم میں لائیں کہ کون کون سے چینل کے کون کون سے پروگرامات اسلامی تعلیمات، نظریہ پاکستان، پیمرا قوانین اور معاشرتی اقدار و روایات کے خلاف ہیں.
اور ایسے حکمران لائیں جو ہماری نسلوں کے محافظ ہوں، نہ کہ مارے جانے والوں پر مذمت کرکے اپنے بچوں کے بینک بیلنس بھر کر ہاتھ جھاڑنے والے۔ جب تک مخلص، دیانتدار اور کرپشن سے پاک لوگ برسراقتدار نہیں آئیں گے، حالات تبدیل نہیں ہوں گے.

نہ میرا خدا کوئی اور ہے نہ تیرا خدا کوئی اور ہے

 توبہ کی امید پر گناہ کرتے جانا ٓ آج کے مسلمانوں نے وطیرہ ہی بنا لیا ہے

مرتے دم کا کیا اتنا یقین اور بھروسہ ہے کہ سانسیں مہلت دیں گی کہ کلمہ ادا ہوجائے اور

اپنے کئے گناہ پر توبہ کرسکیں

گناہ ہوجانے پر ندامت اللہ کو بہت پسند ہے۔۔۔رجوع کی کیفیت اللہ کو تقوی سے زیادہ محبوب ہے

 خالق کائنات کو یہ دھوکہ دینے کی اتنی بڑی جرات انسان کرتا ہے کہ گناہ ارادے سے کرے اور سوچے کہ اللہ غفور و رحیم ہے بعد میں معافی مانگ لوں گا

لذت گناہ ۔۔۔۔گناہ سے بدتر ہے

ایسا سوچ کر انسان خود کو دھوکہ دے سکتا ہے لیکن اللہ کو یہ دھوکہ دے کر اس کے غضب کو دعوت دیتا ہے

انسان یہ سوچ بھی کیسے سکتا ہے کہ وہ اتنی عظیم ہستی کو یہ دھوکہ دے ۔۔کہ گناہ کا ارادہ کرے اور ساتھ یہ بھی ارادہ کرے کہ گناہ کی لذت حاصل کر کے بعد میں معافی مانگ لے گا

اللہ کے ساتھ دھوکہ

استغفراللہ

جہنم ایسے ہی انسانوں سے بھرے گی

ہاں اگر یقین ہے کہ مرتے دم توبہ کی توفیق مل جائے گی ۔۔۔کیا واقعی یہ یقین ٹھیک ہے

جب کہ ہزاروں انسان روزانہ اپنے معمول کے کام کرہے ہوتے ہیں پل بھر میں فرشتہ اجل ان کو اگلے جہاں پہنچا دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

زرا سوچیں

پل صراط جو بال سے باریک ہوگا اور اس کے نیچے جھلستی جہنم کی آگ

!!!!!

تو کیا یہ بھی یقین ہے کہ وہاں سے گزر جائیں گے

ایک لمحہ تصور کیجئے کہ اگر پھسل کر گرادئیے جائیں گے اور اسی طرح کہا جائے کہ زرا جہنم میں جھلس لو بعد میں نکال لئے جاو گے۔۔۔۔

حوض کوثر پر جائیں تو فرشتے روک لیں کہ زرا جہنم کی سیر کر آو بعد میں اجازت دی جائے گی

جہنم میں کھولتی پیپ پلائی جائے اور کہا جائے پیو۔۔بعد میں نکال دیں گے۔۔۔۔

بار بار جلایا جائے اور کہا جائے یہ سال تو یہاں ہی گزارو بعد میں نکال دئیے جاو گے

اور روز ہزاروں بار جلایا جائے۔۔۔پھر ٹھیک کیا جائے پھر جلایا جائے

ہے نا جیسا یہ دھوکہ دنیا میں اللہ کو دیتے ہو کہ گناہ کر کے معافی مانگ لیں اگر جوابا یہی سلوک آخرت میں ہوا تو کیا کرو گے

بولو۔۔۔۔چپ کیوں ہو۔۔۔۔سوچو

رب کی عبدیت میں اتنی ہٹ دھرمی نہ دکھاو کہ ارادے سے گناہ کرو ۔۔۔کسی انسان  پر ناحق زیادتی کرو۔دل دکھاو اور معاشرے میں آپ کے گناہ کی وجہ سے بے چینی پھیلے ۔۔اور آپ بعد میں معافی مانگنے ۔۔۔توبہ کرنے کے ارادے سے گناہ کرتے چلے جائیں۔۔۔

یہ ایسی دلدل ہے جو انسان کو سر تا پا کھینچتی ہے جب تک پوری طرح انسان کو رب سے دور اور مغضوب نہیں کرلیتی تب تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی

کیوں کہ یہ حضرت ابلیس کا سجایا مکر و فریب کا جال ہے ۔۔۔انسان جس میں پھنستا چلا جاتا ہے

فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے

اپنے رحمان رب کو دھوکہ نہ دیں

یا ابلیس کے مکر کے جا میں پھنس کر دورزخ کا ایندھن بنیں

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

سیلف کانفیڈنس انسان کے پاس سب سے قیمتی متاع ہوتی ہے۔اپنی ذات کا اعتماد اسے کبھی غریب نہیں ہونے دیتا۔۔فقر میں بھی شاہی محسوس ہوتی ہے

سیلف کانٖفیڈنس اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنی ذات سے اپنے ارد گرد رہنے والوں کو فیض یاب کرنے کا نام ہے

یہ ایسی دولت ہے کہ جو فقیری میں امیر کردیتی ہے

جو یہ نہ رہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امیری میں بھی انسان غریب ترین ہوجاتا ہے۔۔۔

سیلف کانفڈنس جیسی متاع کسی کے لوٹنے سے انسان نہیں کھوسکتا۔۔۔

سوائے اس کے کہ انسان جو خود جانتے بوجھتے دوسروں کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چل پڑے

اور کچھ سفر طے کرنے کے بعد احساس ہو کہ دوسرے اپنا ہاتھ چھڑا کر اگلی منزل کو نکل پڑے ہیں۔۔۔

اور انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ وہ خود کہاں پہنچا۔۔اپنی ذات کا اعتماد گنوا کر بھی منزل کو نہ پہنچ سکا بلکہ راستہ ہی کھو دیا۔۔۔

سیلف کانفیڈنس جیسی متاع انسان خود اپنی غلط فہمیوں کی بنا پر جانتے بوجھتے

دوسروں کے ہاتھوں دھوکہ کھا کر گنوادیتا ہے

ایسا ہوجائے تو یقین کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان تا عمر اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہوسکتا

اپنے سیلف کانفیڈنس کی خود حفاظت کریں ورنہ دہری زندگی جینے کے عذاب سے بڑا کوئی عذاب نہیں۔۔۔

دوسروں کے بھی سیلف کانفیڈنس کا خیال رکھیں جانے انجانے میں کسی کا اعتماد نہ توڑیں۔۔۔

وعدہ کریں تو پورا کریں۔۔۔اپنا کہا نبھانا سیکھیں

کبھی کسی کا اعتماد اور بھروسہ نہ توڑین۔۔۔

ہو سکتا ہے اس غریب کے پاس وہی اس کی کل متاع ہو

نہ خود کسی کا تر نوالہ بنیں کہ کوئی اپنا شوق پورا کرے اور آپ سے مطلوب فائدہ اٹھا کر چلتا بنے اور آپ اپنی قیمتی ترین متاع لٹا بیٹھیں

یاد رکھیں

سیلف کانفیڈنس اگر ایک بار کھودیا تو زندگی بھر اپنے قدموں پر پہلے جیسے اعتماد سے کھڑے نہ ہوسکیں گے

اور دہری زندگی جینے کا عذاب مسلسل اذیت دیتا رہے گا

فتنوں کے دور میں۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی بھی  طوفان کی آمد کی خبر پا کر انسان سکون سے نہیں بیٹھا رہ سکتا ۔۔۔لامحالہ حفظ ماتقدم کے طور پر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا سوچتا ہے۔۔۔ارد گرد خبر رکھتا ہے اہل علم اور ماہرین سے مشورے کرتا ہے

آخرت کا دن ایسا ہے کہ جسے آکر ہی رہنا ہے۔۔۔جب جس وقت اللہ نے مقرر کررکھا ہے اسی  وقت ضرور آکر رہے گی۔

حدیث مبارکہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا قیامت اور میرے درمیان (اپنی دو انگلیاں بلند کرتے فرمایا) صرف اتنا ہے (البخاری )

آخرت کا دن قریب آتا جارہا ہے

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “جلد از جلد اعمالِ صالحہ اختیار کرلو،ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح یکے بعد دیگرے آئیں گے،(حال یہ ہوگا کہ) آدمی اس حال میں صبح کرے گا کہ وہ ایمان والا ہوگا اور شام اس حال میں کرے گا کہ وہ ایمان سے محروم ہو چکا ہوگا”۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ “عنقریب فتنے پیدا ہوں گے،ان فتنوں میں بیٹھنے والا،کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا سعی کرنے والے ( یعنی کسی سواری کے ذریعہ یا پیدل دوڑنے والے اور جلدی چلنے والے)سے بہتر ہوگا اور جو شخص فتنوں کی طرف جھانکے گا فتنہ اس کو اپنی طرف کھینچ لے گا،پس جو شخص ان فتنوں سے نجات کی کوئی جگہ یا پناہ گاہ پائے تو اس شخص کو چاہیے کہ اس کے ذریعہ پناہ حاصل کرلے

قرآ ن و احادیث میں دجال کا فتنہ یا قرب قیامت کی علامات کے بارے میں پڑھیں تو  ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دور میں  سب سے قیمتی چیز ایمان رہ جائے گی وہ صرف اور صرف ایما ن ہوگا

صورتحال کچھ یوں ہے کہ  دور حاضر کے متعلق علما کرام اور محقیقین کا کہنا ہے کہ فتنوں کا وہ دور جو قرب قیامت  کی علامات کے  ساتھ وارد ہونا تھا

وہ  آن پہنچا ہے۔۔۔۔دور حاضر میں ہماری نسل نو کے لئے  بڑی ٓزمائشیں ہیں اور انبیا علیھم  السلام اور دور نبوت ﷺ  میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے جہاں حق کو قبول کیا وہیں ان کے لئے انبیا نے نوجوانوں کے لئے تزکیہ و تربیت پر زیادہ توجہ دی۔ہم دیکھتے ہیں کہ اصحاب صفہ ہوں یا نوجوان سپہ سالار صحابہ کرام ایک لمبی فہرست موجد ہے

آج کے نوجوانوں کو موجودہ دور جسے علما نے فتنوں کا دور قرار دیا ہے اپنی کون کون سی متاع کو پران چڑھانا ہے۔۔۔کن کن چیزوں سے مدد لینی ہے کہ اس دور پر آشوب میں اپنی سب سے قیمتی چیز ایمان کو بچا لیں۔۔آئیے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں

ایمان باللہ 

جس  خالق نے پیدا کیا ۔۔۔نعمتوں سے نوازا اس کی ان گنت اور بے شمار نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت مسلمان گھرانے میں  ہماری پیدائش ہے

ایمان  باللہ ایک قیمتی ترین چیز ہے جس کے پیچھے شیطان ہر وقت تاک میں رہتا ہے ۔۔۔۔ ایمان کا معاملہ بہت  نازک ہے ۔۔یوں جانئیے کہ دنیا کی تمام دولت  ۔۔۔آسائشیں ایک جانب اور ایمان جیسی قیمتی متاع ایک جانب

خوف آتا ہے کہ زندگی بھر تو مسلمان کہلائے جاتے ہوں مسلمانوں میں شمار ہو لیکن جب آخرت  آئے  تو  اعمال کی بنیاد پر حضور اکرم ﷺ کی پکار ’’ امتی امتی‘‘ کا جواب لبیک لبیک نہ دے سکیں

عمر بھر نام تو مسلمانوں والا ہو جو رب پر ایمان رکھتے ہیں لیکن رب کی جستجو اور تلاش میں جدوجہد نہ کی ہو

پس تم مجھے یاد رکھو میں تمھیں یاد رکھوں گا    القرآن

سارے جہاں کا خالق و مالک   اتنی بڑی کائنات میں ہم جیسے حقیر سے زرے کو یاد   کرے تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی اور پھر ہمیں کسی اور کے یاد کرنے یا نا کرنے کی کیا خواہش یا ضرورت رہ جائے گی؟؟اس عقل مند بڑھیا کی طرح فیصلہ کیجئے کہ جب بادشاہ کے محل  میں  عوام کے لئے خزانوں کے منہ کھول دینے پر ۔۔۔۔وہاں سے چھوٹی موٹی چیزیں اٹھانے کی بجائے بادشاہ پر ہاتھ رکھ لیتی ہے کہ مجھے تو بادشاہ چاہئے

کہ ’’بادشاہ مل گیا تو اس کے تو سب خزانے ہی مل جائیں گے‘‘

کائنات کا بادشاہ کیسے ملے گا!!!!! رب تو وہ سب کا ہے امیر کا بھی غریب کا بھی۔پڑھے لکھے کا بھی ان پڑھ کا بھی ۔۔۔

جو مانتے ہیں ان کا بھی وہی رب ہے اور جو نہیں مانتے ان کا بھی وہی رب ہے بھلے وہ اس حقیقت سے کتنا ہی انکار کریں

صد شکر کہ ہم ماننے والوں میں سے ہیں۔۔۔ہم چاہتے بھی ہیں کہ ہمارا رب ہم سے راضی رہے۔۔۔ہم جانتے ہیں کہ اگر وہ خفا ہوگیا تو دنیا بھر کے خزانے ہیچ ہیں۔۔۔۔۔وہ  راضی ہوگیا تو پھر اور کچھ نہیں چاہیے

رب کو کیسے راضی کرنا ہے!!!!

حی علی الفلاح

اذا ن پر فوری  لبیک کہیں۔۔۔جیسے ہمیں ہر چیز مکمل  چاہئے  ہوتی ہے۔۔۔وضو کرتے سوچیں کہ ہم رب کائنات کو ملنے جارہے ہیں۔۔نماز کی مکمل رکعت آرام سے ادا کریں۔۔۔ایسے جیسے ہم کسی شہنشاہ سے ملنے کھڑے ہیں۔۔ترجمہ پر غور کرتے ہوئے کہ کہہ کیا رہے ہیں۔۔۔دعا اپنے لئے سب سے پہلے مانگیں پھر اہل خانہ ،دوست احباب،رشتہ دار ملک عالم اسلام۔۔دنیا سے گزر جانے والوں کے لئے ،شہدا کے لئے  سب کے لئے دعا کریں ۔۔دعا سے کایا پلٹ سکتی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام ایک بڑی مثال ہے

روزہ ایک ڈھال ہے

پیر یا جمعرات یا ایام ابیض یعنی اسلامی مہینوں کے ۱۳،۱۴،۱۵ تاریخوں کے روزے۔۔روزہ ایمانی قوت کا بڑا ذریعہ ہے۔اللہ کی قربت اور روزہ کے دوران اللہ کے احکامات کی پابندی انسان کو ایمان و عمل کی قوت دیتی ے

نوافل اور تہجد

جیسے دنیا میں کسی پسندیدہ شخصیت توجہ حاصل کرنے کے لئے ہم اہتمام کرتے ہیں ایسے ہی دو،۴ رکعت نوافل۔۔۔رات جب آنکھ کھلے سحری سے قبل اس وقت تہجد کے نوافل تو افضل ہیں۔۔ بقول ڈاکٹر ام کلثوم   اگر سوتے میں آنکھ کھلنے پر اذکار اور دعائیں یا  حفظ شدہ قرآن بھی پڑھ لیں تو یہ بھی تہجد میں شمار ہوگا

صدقہ و خیرات

کم از کم یا زیادہ سے زیادہ جتنی استطاعت ہو تحریک کے مالیات میں رقم جمع کروائیں۔جب بھی کوئی رقم یکمشت پاس آئے اس میں سے  فی سبیل اللہ حصہ نکال کر الگ  کرلیں۔کسی نیک کام کا ارادہ  کریں تب بھی اور کسی مشکل میں پھنس جائیں تب بھی نوافل اور رقم کا صدقہ اللہ کے حضور پیش کرنا افضل ہے

جان ،وقت اور صلاحیتیں بھی خدا کی راہ میں کھپانا

ہمیشہ کے لئے باقی رہ جانے والا عمل ہے جو اللہ کو محبوب ہے  وہ اللہ کے راستے ،اللہ کی جانب لگایا گیا وقت،صلاحیت اور کوشش ہے۔۔یہ ہمارا الست بربکم عہد بھی ہے اور معاملہ بیع بھی

بے شک مومنین نے اپنے جان اور اپنا مال اللہ کو دے دیا ہے جنت کے بدلے میں(التوبہ ۱۱۱)

میرے روز و شب کے نصاب میں میرا اپنا تو کچھ نہیں

تیرا قرض میری زندگی میری سانسیں تیری امانت

تعلق باللہ کو جانچنے کا پیمانہ

اپنا خوف الٰہی چیک کریں۔۔۔خوف الہی کا مطلب  صرف یہ نہیں کہ اللہ سے ڈرا جائے بلکہ اس کی ناراضگی سے کتنا خوف آتا ہے کہ آپ برے کام سے رک جاتی ہیں۔

دوسرا۔۔۔اس کی محبت کتنی حاوی ہے کہ اس  کی رضا کے خلاف کام کرتے رک جاتی ہوں۔۔۔۔اور یہ دیکھیں کہ اللہ نے کن کاموں میں مصروف کررکھا ہے

ایک بار ایک طالبہ پاس آئی۔۔اس کے چہرے پر اضطراب تھا۔۔آنکھوں میں آنسو تھے رندھے ہوئے لہجے میں اس  نے سوال کیا ۔۔کیسے معلوم ہو کہ اللہ ہم سے راضی ہے۔۔ ؟کیسے پتہ چلے کہ ہمارے اعمال ہمارا رب قبول کررہا ہے!!!!!

میں خود ایک لمحہ کے لئے خاموش ہوگئی اور مجھے لگا اللہ نے مجھے الفاظ دئیے۔۔۔یہ دیکھو کہ اگر بار بار اللہ نیک لوگوں کا ساتھ دے رہا ہے۔۔۔قرآن و سنت کی محفلوں میں لے آتا ہے۔۔تحریک کے کاموں میں لگاتا ہے۔۔کسی ناظمہ کسی تحریکی ساتھی کا فون یا میسج   آتا ہے۔۔۔تو جان لو اللہ تم سے پیار کرتا ہے اور تمھیں دنیا میں خود کو ضائع نہیں کرنا  چاہتا بلکہ اپنی رحمت اور مہربانی میں لینا چاہتا ہے  کیونکہ اللہ فرماتا ہے ـ’’ میں جس پر مہربان ہوتا ہوں اسے دین کا فہم عطا کرتا ہوں‘‘

چنانچہ  ہر ایسی دستک کو جو آپ کو اللہ والوں سے ملائے۔۔ان کے ساتھ اٹھائے بٹھائے۔۔ان کے کاموں میں لگائے اسے  من جانب الہ سمجھ کر اللہ کی دعوت قبول کریں کوئی بھی نہیں چاہتا ہوگا کہ اللہ کی دعوت ٹھکراکر بدنصیب کہلائے

استغفار

تعلق باللہ  کا بہترین ذریعہ استغفار ہے

چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ’’استغفار‘‘ کو اپنا معمول بنالیجئے۔استغفراللہ کا ورد ہو یا لاالہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔۔یا  سید الاستٖغفار جو بھی ممکن ہو ہر وقت وضو بے وضو ،،معمولات زندگی ادا کرتے اپنی زبان پر جاری رکھیں۔۔ہر نماز کے بعد ایک تسبیح کیجئے۔کم از کم استغفراللہ اپنی زبان پر ہر وقت ہر حال میں جاری رکھیں

رجوع الی اللہ

سارے در بند ہوسکتے ہیں۔۔۔۔ہر کوئی منہ موڑ سکتا ہے ۔۔۔ہر ایک ہمیں مایوس کرسکتا ہے سوائے ہمارے پیارے رب کے۔۔۔ہم خطا کار بندے ہیں اس رب جلیل کے۔۔۔کوتاہی بھی ہوجاتی ہے۔۔شیطان ۲۴ گھنٹے پیچھے ہے۔۔اس نے تو چیلنج کررکھا ہے نا۔۔۔تو کوئی بات نہیں بندے تو ہم اللہ ہی کے ہیں۔۔۔اور ہمارا پیارا رب ۔۔۔کریم  و رحیم رب۔۔اسے رجوع کرنے والے زیادہ پسند ہیں۔۔۔جو اگر بھول چوک سے جانے انجانے میں ا س کے بندوں سے غلطی ہوجائے تو  واپس اس کی طرف پلٹ جانے والے سے زیادہ پیار کرتا  ہے۔۔۔یقین مانئیے اس پیار کو رجوع کرنے والے ۔۔استغفار کو معمول  بنانے والے ضرور محسوس کریں گے

تعلق باللہ کے لئے جو سب سے بنیادی  ضرورت ہے وہ ہے فکر آخرت

ہائے  کبھی منظر سوچیں۔۔۔حشر کا میدان سجا ہو۔۔دربار میں تمام انبیا بیٹھے ہوں۔۔۔رب تعالیٰ تخت نشیں ہوں۔۔۔ساری سہیلیاں دوست احباب رشتہ دار دنیا بھر کے لوگ موجود ہیں۔۔۔۔اور امت محمدی  کے طور پر پکارا جائے تو ہمارے محسن۔۔ہادی و رہبر ﷺ پر امید نگاہوں سے ہماری جانب دیکھیں۔۔۔۔اورہمارا اعمال نامہ پیش ہو

دائیں اور بائیں فرشتے  اچھائیوں اور برائیوں کا رجسٹر لئے حاضر ہوں۔۔۔دائیں اور بائیں پلڑے  نصب ہوجائیں۔۔۔اعمال پیش ہورہے ہیں۔۔نیکیوں پر ہم پھولے سما رہے ہیں اور برائیوں پر ۔۔۔۔ اللہ کے دربار کی شان۔۔انبیا کرام ہیں۔۔۔حضور اکرم ﷺ ہیں۔۔۔سارے واقف سارے عظیم لوگ ہیںں۔۔۔سر تو انکار میں ہی ہلے گا

نہیں نہیں اللہ جی یہ ہم نے نہیں کیا۔۔۔ہمارے اعضا بولے گے۔۔کیا ہے کیا ہے۔۔۔وہ کام کرتے ہوئے آثار یعنی زمین،کرسیاں،موبائل،میسج باکس،ای میل۔پنکھے،دیواریں سب بولنے لگ جائیں گے ۔۔۔اس نے کیا ہے کیا ہے۔۔۔۔ہم پھر بھی انکار کردیں گے اور حشر کے دربار میں سارے جہان کے سامنے ہماری کارگزاری کی فلم چلادی جائےگی۔۔۔ سب کے سامنے ۔۔حضور اکرمﷺ کے سامنے۔۔۔انبیا کے سامنے۔۔۔

اور دوسرا منظر سوچیں ۔۔حشر کا دربار ہو اور  اور اللہ فرمادے

یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے تھا۔۔فرشتے نیکیاں بول بول تھک جائیں۔۔۔ہمارے اعضا بولیں کہ یا اللہ اس نے تیرے راستے میں ہمیں تھکا مارا۔۔۔۔آثار پکاریں یا رب یہ بڑے آرام سے شیطان کے پیچھے چل کر آپ کو خفا کرسکتا تھا لیکن  اس نے  اپنے نفس پر تیری رضا کے لئے قابو کیا

اللہ کے پیارو۔۔۔آخرت   کی فکر کر لو اس دن رب راضی ہوجائے۔۔۔ہائے ہائے اس دن ہماری نبی کریمﷺ ہماری پیشی پر شرمندہ نہ ہوں۔۔۔۔ہائے ہائے اس دن پل صراط سے گزر ہوجائے۔۔بھڑکتی آگ سے بچت ہوجائے۔۔۔ یا الٰہ۔۔۔اس دن اپنے نبی کریم ﷺ سے حوض کوثر سے شیریں دودھ پینا نصیب ہوجائے

خدایا ایسے اعمال ہوجائیں کہ تو ہم سے ہمارے والدین ہمارے سب پیاروں سے راضی ہوجائے

زندگی ایک مہلت عمل

یہ سب آسانی سے نہیں ملے گا۔۔۔۔اس کے لئے کشت کاٹنے پڑیں گے۔۔۔اپنی زندگی کا راستہ خود کھودنا اور تعمیر کرنا پڑے گا

یہ جو فتنوں کا دور ہے اور اس دور میں جو ہر دوسرے سکینڈ آنے والے منظر میں خدا سے غافل کردینے کا پوری حشر سامانی موجود ہے

کب کہاں کس وقت زندگی کی مہلت ختم ہوجائے اور ہاتھ میں پکڑے سیل سے کچھ ڈیلیٹ کرنے کا ۔۔لاگ آوٹ کرنے کا موقع بھی نہ ملے۔۔۔

جوان۔بچے بوڑھے دھڑا دھڑ دنیا سے جارہے ہیں۔۔آج وہ مرے کل ہماری باری ہے۔۔۔

ایسا نہ ہو کہ موت اچانک آجائےتو کانوں میں لگے میوزک کا ہیڈ فون بند کرکے کلمہ پڑھنے کا موقع نہ ملے(خدانخواستہ)

مایوس تو وہ ہو جس کا رب نہ ہو!!!

یہ نہ ہو کہ رب سے مایوس کرنے والا شیطان ہماری آخرت ہمیشہ کے لئے برباد کردے ۔۔۔سخت سے سخت گناہ ہوجائے رب سے مایوس ہوکر اپنی زندگی اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔۔رب کے حوالے کردیں۔۔اس کی رحمت میں رجوع کر لیں۔۔اس  کے قرآن سے مدد لیں۔۔اس کےحبیب  نبی ﷺ کی تعلیمات۔ان کی سنتوں ان کی احادیث سے مدد لیں۔۔۔ہمارا رب اپنی جانب پلٹنے والوں کو تھام لیتا ہے۔۔کبھی بھی مایوس نہ ہوں شیطان کا ہتھیار ہے رب سے مایوس کرکے خودکشی کی طرف  نہ جائیے گا کہ آخرت ہی مکمل برباد ہوجائے ۔۔اور بخشش  کا پتہ ہمیشہ ہی کے لئے  کاٹ دیں۔۔۔نجات کی کوئی سبیل ہی باقی نہ رہے۔۔زندگی تو جیسی تیسی کٹ جاتی ہے اگر آخرت میں رب کی رحمت سے اس وجہ سے محروم کردئیے گئے تو یہ بہت بڑی نادانی ہوگی۔۔۔سخت سے سخت حالات میں۔۔بڑے سے بڑے گناہ کے بعد بھی اپنی زندگی کے مالک نہیں بن جاتے یہ اللہ کی امانت ہے۔۔۔وہ رب جو بڑے سے بڑے گناہ کے بعد بھی دل سے کئے استغفار اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کے ارادے پر اپنی رحمت میں۔۔اپنی رضا  کی چھاوں میں لپیٹ لینے کا منتظر رہتا ہے۔۔۔اپنے رب کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہ ہوں۔۔۔اپنی زندگی خود ختم کرکے رحیم وکریم رب کی محبت کو غضب میں بدلنے کی غلطی کبھی بھی نا کیجئے گا ۔۔۔وہ تو منتظر ہوتا ہے کہ میرا بندہ کب میری طرف پلٹے ۔۔۔دنیا مایوس کر سکتی ہے رب کبھی بھی مایوس نہیں کرسکتا۔۔۔۔

وہی رب ہے جو سب ہے

بارش کے قطروں کی طرح برستے فتنوں کے اس دور میں رہتے ہوئے یاد رکھنا کہ میرا  رب میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے۔۔وہ مجھ سے غافل ہے نہ کبھی بھول سکتا ہے۔۔۔منتظر ہے۔۔۔میرے اپنے طرف پلٹ آنے کا۔۔مجھے اپنی رحمت میں سمیٹنے کا وہ ستر ماوں سے زیادہ پیار کرنے والا کہیں مجھ سے خفا نہ ہوجائےوہ میرے ایک قدم پر دس قدم میری  جانب آئے گا۔۔۔لیکن وہ ایک قدم مجھے اٹھانا ہوگا۔۔۔۔وہ اپنی طرف چل کر آنے والوں کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔۔۔سو رب کی طرف چلنے کی ہمت اور ارادہ ہمیں خود کرنا ہوگا،،تو ہمارا مالک ہماری طرف بھاگ کر آئے گا

اللہ کے پیارو۔۔۔ فتنوں کے اس دجالی دور میں جب ہر ہر چیز  رب سے اس کی رضا سے دور لے کر جانے کو بے تاب ہو۔۔۔آپ ضدی بچے کی طرح اپنے رب کی رضا کے لئے ڈٹ جائیے،دنیا الٹ پلٹ ہو جائے ۔۔۔۔ادھر سے ادھر ہوجائے۔۔۔کاموں کے پہاڑ ہوں۔۔۔اپنے رب سے اپنا تعلق کمزور نہ پرنے دیں

اپنے ایمان باللہ  کی حفاظت کیجئے۔۔۔کیسے؟؟؟

نمازوں،تلاوت قرآن،نوافل،اذکار،تہجد،صدقہ و خیرات،استغفار اور فکر آخرت سے اس کی آبیاری کیجئے

اللہ نے جن چیزوں کا مکلف کیا ہے ان کو پہلے درجے میں ادا کیجئے مثلا والدین کی  فرمانبرادی،جھوٹ ،غیبت سے بچنا،رزق  حلال،صحبت صالحہ

یہ ۵ وہ کام ہیں جو فتنوں کے اس دور میں ان شااللہ آپکے تعلق باللہ کو مضبوط کریں گے اور دجالی دور میں ایمان آخرت کی کامیابی کے لئے سلامت رکھیں گے

ایسے تمام کاموں سے یا تو مکمل اجتناب کریں یا کم از کم وقت ان پر لگائیں جو آپ کے تعلق باللہ کے رستے میں رکاوٹ بنیں

مثلا   بے مقصد گفتگو۔۔بحث و مباحثہ۔۔۔اور بے مقصد گھومنے پھرنے سے گریز رہے

لمبے لمبے ٹاک شوز کی بجائے اخبارات کا ۔۔کالمز کا مطالعہ مفید رہے گا

تفریحی چینلز اور سوشل میڈیا کے لئے وقت مقرر ہو کہ بس اتنا وقت دینا ہے۔اس سے زائد نہیں۔۔اس پر خود کو کاربند کریں

ایک اہم اور مفید عمل یہ ہوگا  جس کے لئے آپ کو بہت محنت کرنا ہوگی۔۔۔لیکن اس کے اثرات سکون،اطمینا اور اس کی خوشگواریت آپ خود محسوس کرسکتے ہین

وہ ہے نمازوں کے اوقات کے ساتھ اپنا ٹائم ٹیبل مقرر کرنا

فجر میں جاگنا۔۔ہلکی پھلکی چہل قدمی،بھرپور ناشتہ۔۔دن بھر کی مصروفیات۔۔ظہر کے بعد مختصر آرام عصر کے بعد مطالعہْْمغرب کے بعد فیملی ٹائم یا اپنے امور ۔۔۔عشا کے بعد کھانا کھا کھا کر ہلکی سی چہل قدمی ۔سونے سے قبل ہلکا پھلکا اچھے ادب کا مطالعہ۔۔۔اور دس بجے تک سوجانے کا معمول۔۔مسنون ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ مفید رہے گا

فارغ نہ رہیں۔۔خود کو مصروف رکھیں۔۔کسی نادار کو پڑھانا شروع کردیں۔۔۔کوئی  skill آتا ہے وہ آگے سکھانا شروع کردیں

صحبت صالحہ ۔۔ اپنی صبف کے ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی کریں جو قرآن و سنت کے قریب ہوں،ایسی کلاسز اجتماعات میں اہتمام سے کوشش کر کے جائیے جہاں قرآن و سنت پڑھا پڑھایا جاتا ہو۔

ایمان جیس قیمتی چیز فتنون کے اس دور میں ازلی ابدی دشمن شیطان ،دجال اور دجالی  چالوں سے بچانے کے لئے درج بالا محنت تو کرنا ہوگی کیونکہ معاملہ ہے ایمان کا

رب کی رضا کا۔۔۔ہماری دنیا کا۔۔۔ہماری آخرت کا۔۔

سودا ہے جنتوں کا۔۔۔۔آخرت کے دن نبی کریم ﷺ کی اور قرآن کی شفاعت کا

تو کیا آپ تیار ہیں؟؟؟؟

فریدہ یوسفی لاہور

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت

ایک زمانہ ہوتا تھا دادی نانی کہانیاں سنا یا کرتی تھیں۔۔۔بچے اسکول اور ماں کے نرخے سے بچنے کے لئے دادی اور نانی کے پاس جانے کو بے چین رہا کرتے تھے۔۔۔رشتہ دار ایک دوسرے کے ہاں کئی کئی دن قیام کرتے۔۔۔کسی مہمان کے آنے کی کوئی پریشانی نہیں ہوا کرتی تھی۔۔۔بلکہ تعطیلات میں اگر کوئی نہیں آیا کرتا تو فکر کی جاتی تھی۔۔۔بہنیں بہنوں بھائیوں کے گھروں رہا کرتیں۔۔۔بھائی بہنوں کے گھروں چکر لگایا کرتے۔۔۔۔۔میکے آباد ہوا کرتے۔۔۔سسرالوں میں سوغات لے کے جانے والے کی خاطر مدارات کئی دن رہتی۔۔۔۔۔۔

شادی بیاہ  ،بچوں کی پیدائش ہو یا غمی کا کوئی موقع رشتہ دار گھر کا انتظام سنبھال لیتے۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکنالوجی آئی تو ٹی وی کسی کسی گھر میں ہوا کرتا تھا۔۔۔۔جس گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا وہاں سھام کے 8 بجے کے ڈرامے اور 9 بجے کے خبر نامے کو سننے پورا محلہ اکٹھا ہوجاتا۔۔۔ریڈیو پر خبریں سننے مرد حضرات اور بزرگوں کی بیٹھکیں لگا کرتیں۔۔۔بی بی سی کی خبریں سن کر گھنٹوں بحثیں چلا کرتیں۔۔۔۔۔صبح کا اخبار بھی کوئی ساتھ لایا ہوتا اس کی شہ سرخیاں بھی گاہے بگاہے زیر بحث آیا کرتیں۔۔۔اور جو کوئی اس محفل میں آنے سے رہ جاتا اس کی فکر کی جاتی ۔۔۔کوئی نہ کوئی واپسی پر یا اگلے دن اس کی خیریت دریافت کرنے گھر ضرور چکر لگا آتا۔۔۔مسجدوں میں نمازی جاتے وقت گلی محلے کے بچوں کو بھی ہاتھ پکڑ کر مسجد لے جاتے ۔۔۔۔عصر کے بعد مسجدوں سے بچوں کے باآواز بلند قرآن اور نورانی قاعدہ پڑھنے کی مسحور کن آوازیں فضا میں ایک سحر سا طاری کررہی ہوتیں

خواتین فجر کے بعد سے ناشتے،لنچ پیک کئے جاتے۔۔ناشتے علی الصبح کرتے ہی گھر کی دھلائی صفائی کرکے خواتیں چھوٹے بچوں کو نہلا دھلا کر سلادیتیں اور خود بھی نہادھو کر سلائی کڑھائی کرنے بیٹھ جاتیں۔۔۔۔آس پاس کی لڑکیاں بالیاں سلائی اور کھانے کی ترکیبیں پوچھنے اکھٹی ہوجاتیں۔۔۔کوئی چوڑی دار پاجامے کی کٹنگ سیکھتی تو کوئی کرتے کی کلیاں ڈالنے کا طریقہ سمجھ رہی ہوتی۔۔۔۔۔ ساتھ ساتھ گزشتہ شب دکھے ڈرامے کی قسط کے تذکرے بھی چلتے اور جو دیکھنے سے محروم رہ گئی ہوتی ان کو سنائے جاتے اگلی قسط کے بارے  پیش گوئیاں کی جاتیں

سر شام ہی چائے کی محفل پر گھر والے اکٹھے ہوتے۔۔۔موقع محل مطابق چائے کے ساتھ پکوان بنتے۔۔۔۔اور رات کے کھانے کی تیاری کرلی جاتی کہ 8 بجے کا ڈرامہ سہولت سے دیکھا جائے

محلے میں ایک پی ٹی سی ایل کا فون آیا ۔۔۔۔اس کا واحد استعمال یہ تھا کہ جب اس کی گھنٹی بجتی تو گھر والے دل پر ہاتھ رکھ کر فورا اللہ خیر بولتے۔۔۔گھر کی بڑی ذمہ دار شخصیت بڑے اہتمام کے ساتھ فون اٹھاتی اور پیغام وصول کرتی۔۔۔

محلے بھر کے فون اسی پر آتے۔۔۔۔۔۔جب کسی کے گھر فون کال کا بلاوا جاتا تو پریشانی قابل دید ہوا کرتی۔۔۔ہانپتے کانپتے فون سننے آیا جاتا۔۔۔۔اور جب تک فون سننے والا واپس گھر نا چلا جاتا گھر والے خیر کی دعائیں کررہے ہوتے۔۔۔۔

شاید آج کی نسل تار گھر سے نا واقف ہو۔۔۔خط ایک شہر سے دوسرے شہر جانے میں ہفتوں لگ جاتے جواب آنے میں مہینوں۔۔۔دوسرے ممالک  ڈاک جانے مہینوں لگا کرتے اور واپسی بھی اتنی ہی مدت

تار گھر میں ایک یا دو سطری پیغام ہوا کرتا۔۔۔جس کی وصولی بھی بہرحال آسان نہ ہوتی

وقت نے ایک عشرے میں ایسی تیز رفتاری دکھائی کہ ڈش،کیبل نیٹ ورک او ٹیلی فون سے بات بڑھ کر موبائل فون،سمارٹ فون،فیس بک،ٹوئٹر،انسٹا،یوٹیوب  اور جانے کہاں کہاں پھیل گئی۔۔۔گھر میں گلاس ٹوٹ جائے یا کسی کا دل۔۔اسٹیٹس لگائیں۔۔۔ہوٹلنگ کریں یا سیر کو جائیں سوشل میڈیا پر ڈال دیں۔۔۔چینلز کی بریکنگ نیوز نے ناظرین کو دماغی طور پر مفلوج کردیا۔۔۔۔اب ترکیبوں کے لئے مصالحہ چینل سمیت مختلف النوع کے شیف اور چینلز کے ساتھ یوٹیوب پر ہزار درجہ کی تراکیب موجود ہیں۔۔۔کپڑوں کی سلائی کڑھائی کی بجائے۔۔۔درزیون سے بات آگے بڑھ کر آن لائن شاپنگ اور برانڈ مارکہ بوتیکس پر جاپہنچی۔۔۔۔

گھروں سے سکون رخصت ہوا۔۔۔بچوں کی تربیت اور مصروفیات کا پینترا بدلا۔۔۔۔اب بچوں کو دال سبزی کی بجائے فاسٹ فوڈ اور برائلر چکن کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا اور اگر کبھی دیسی مرغی کھانے کا موقع مل جائے تو اسکی بوٹی توڑنا چبانا مشکل تو ہے ٹیسٹ بھی اچھا نہیں لگتا

خبروں اور اخبارات کی بھر مار ۔۔۔صحافت کے نام پر جانبدار نیوز ایجنسیاں۔۔۔۔ایک اخبار یا چینل دیکھو تو ملک میں سب اچھا کی خبریں۔۔۔دوسرا پڑھو تو لگتا ہے شاید شام کو ہی ملک تباہ و برباد ہونے والا ہے

مذہب کو مشکوک کردیا۔۔۔مسجدیں ویران ہوگئی۔۔۔محلے کے بڑوں نے بچوں کو ٹوکنا چھوڑ دیا کہ اپنی عزت اپنے ہاتھ میں۔۔۔۔عورت نے مظلومیت کی چادر اوڑھ کر دوسری شادی کا راستی بند کرکے دس گرل فرینڈ بنانے سے آنکھیں موند لی۔۔۔بچوں کا مستقبل اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں سے وابستہ ہوگیا جہاں کی فیس ایک متوسط آدمی کی تنخواہ برابر ہے

تعملی نظام میں طباقاتی تقسیم۔۔۔۔اور یونیورسٹیز و دینی اداروں کو مقابل لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی

نتیجہ یہ ہے کہ میرے رابطے کی بہت سلجھی ہوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ بچیاں اپنے حال سے نالاں ہیں۔۔۔۔نوجوانوں میں ڈیپریشن ،انگزائٹی،فرسٹریشن جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں جن کا ہمیں کبھی علم نہ تھا۔۔۔

گھروں کے کھانوں سے ذائقہ رخصت ۔۔۔کھانوں کی میزیں اور شام کی چائے کی محفل اب نہیں سجتی۔۔۔سب کے اوقات مختلف ہیں۔۔۔کوئی باہر کھا کر آرہا ہے تو کوئی ہوم ڈلیوری سے منگوا کر اپنے کمرے میں انجوائے کررہا ہے

کبھی  شوئے قسمت ایک ٹیبل پر بیٹھنے کا موقع مل جائے تو سب اپنے اپنے موبائل میں کوسوں دور بیٹھے لوگوں سے “چیٹ” کرنے میں مصروف ہوتے ہیں ساتھ بیٹھے ہوؤں سے بے خبر۔۔

تیمار داری،تعزیت اور غمی کے موقعے پر ایک موبائل کال نہ ملے تو واٹس ایپ پر ای موجیز کے سہارے ایک میسج کافی ہوگیا  ہے

شادیاں اب مارننگ شوز کی بدولت ایک کاروبار بن کر رہ گئیں

رسومات کی بھر مار تو ہوئی۔۔پروفیشنل فوٹو گرافی نے شادی کی تقیب کی اصل لذت کو بھی ماند کردیا۔۔۔مہندی کے دن لڑکی کی سہیلیوں کا اکٹھا ہوکر موج مستی کرنا  پرانی کہانی ہوئی۔۔۔اب نکاح اور ولیمے سے بڑھ کر مہندی ایک کاروباری رسم بن کر رہ گئی۔۔۔نکاح کے چھواروں کی جگہ مختلف النوع کی بد تو آئی ہی اب چاکلیٹس کی اقسام بھی آنے لگیں۔۔۔۔۔۔ولیمہ ایک پھیکا فنکشن بن کر رہ گیا۔۔۔۔۔۔

مہمان داری ایک بوجھل کام بن گیا۔۔۔۔8،10  ڈشز دعوت میں نہ ہوں تو میزبان کی ناک کٹ جاتی ہے۔۔۔۔۔مہمان کے آنے اور جانے کا وقت مقرر ہوگیا۔۔۔قیام کے لئے رشتہ داروں کی بجائے ہوٹلز میں قیام کا رواج عام ہوچکا ہے۔۔۔

زندگی سے اس کا لطف ختم۔۔۔۔

یورپ کے ایک بڑے بزنس مین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایک ایک منٹ میں بیش قیمت کاروبار کررہا ہے۔۔۔گھر گاڑی بنگلی آفس دنیا کی ہر سہولت اس کے پاس ہے

لیکن وہ سکون جیسی نعمت سے محروم ہے وہ یہ سب چھوڑ کر کسی جنگل میں ایک جھونپڑا بنا کر رہنا چاہتا ہے

دل مردہ ہوگئے۔۔۔احساس سے خالی۔۔۔محبتیں ٹشو پیپر بن گئیں۔۔۔کوئی آئے یا جائے

مشینوں نے زندگی آسان ضرور کی ہے لیکن۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ زندگی رنگ ماند پڑ گئے ہیں

کسی کو اس سے فق نہیں پڑتا

خیال کی پرواز

اک عمر انسان زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے احساسات کی زبان میں خود کلامی کرتے گزار دیتا ہے

پھر دل چاہتا ہے کہ دنیا تک اپنی آواز پہنچائے۔۔۔۔جدید ذرائع نے حضرت انسان کی یہ مشکل حل کردی۔۔۔۔۔

ہم اکثر کسی کی بات سنتے ہیں۔۔۔جس ہم کبھی جانتے نہیں۔۔۔کبھی ملے نہیں ہوتے ۔۔۔نہ وہ ہمیں جانتے ہیں نہ کبھی ہم سے ملے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن وہ الفاط سن کر۔۔۔پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہمارے احساسات کی زبان ہیں۔۔۔جو ہم پر گزری وہ بیان ہورہا ہے۔۔۔جسے ہم نے بیتا وہ سنایا جارہا ہے۔۔۔۔دلوں کے سلسلے میں احساسات کی زبان ایک اجنبی فضا میں بھی مہک اٹھتی ہے

دل کہتا ہے کہ ہاں اس وسیع و عریض کائنات میں ہم ۔۔۔۔۔اکیلے نہیں۔۔۔۔تنہا یہ سب کچھ نہیں سہہ رہے۔۔۔اور بھی بہت سے لوگ اس دنیا میں ہیں۔۔۔جو خیال و احساسات کی جنگ سے گزر رہے ہیں۔۔۔زندگی ان پر بھی بیت رہی ہے۔۔۔۔

فریدہ یوسفی

post